Tusif Ahmad


140 x 58 cm
Code: 13626



Done by hand with a craft blade, this beautiful wall decor is cut to precision. Artwork material is thin sheet of vinyl.

The cost of each paper cut varies depending on size and detail. Please contact me for price.

Customizable? Just message me and I can work with you in whatever custom wall hanging you’d like.

***FRAMES—This listing does not come framed however, you CAN purchase a frame by messaging me. I can add a frame to your order. Frames cost will be separate depending on size of artwork.

The paper cut itself comes in a clear sleeve with round cardboard support. For refunding policies please visit our contact page.



These six pieces of paper cut art depict various phases of the life of Prophet Muhammad (Peace be Upon Him) spanning 63 years. This artwork was carried out by cutting golden and black colour paper and each of the six pieces is a full and complete depiction of a particular phase of his life.

The topic of this second artwork is the Prophet’s (PBUH) Night Journey or the ascension to the heavens. In Arabic the term used for this particular journey is Isra and Miraj, where Isra means night and Miraj means a ladder. It is important here to give a brief context of the Night Journey before to understand this artwork.

The Night Journey occurred eleven years after the Muhammad (PBUH) declared his prophethood. This ascension was in fact physical in nature whereby the Prophet (PBUH) travelled from Makkah to Jerusalem and then and then to the Heavens and back in one night. Some people differ with the physical nature of this journey and wonder how such a long journey could be completed in one night. However, it is important to remember that, even though the story of ascension might sound very strange, God the Almighty is all powerful and does not need provisions or resources to do anything. All He has is to say is “Kun” (Be) and ‘it is’ in the blink of an eye. Allah the Almighty says that the purpose of this Night Journey was to show miracles and great signs to his slave, the Prophet Muhammad (PBUH). One of these miracles is the completion of such a long journey in just a part of a night. The Prophet (PBUH) ascended through the seven Heavens, meeting various prophets at each level, and finally meeting Allah the Almighty at the Tree (Sidrat-ul-Muntaha) which is on the seventh heaven just below God’s throne. 

This artwork is in continuation to the previous one where the path originating from the Cave of Hira also leads to the Night Journey and is depicted by the footsteps of the blessed Prophet (PBUH). In the centre is shown an animal, a horse with wings known as Burraq, which was Prophet’s (PBUH) transport in this journey. Above Burraq are seven semicircles, each portraying a Heaven that the Prophet (PBUH) visited. The prophets he met in this journey on each Heaven are mentioned in golden paper. The drawing pattern of each Heaven is unique so that each looks prominent and beautiful. 

Above the Heavens on the left side is written one of the names of Allah the Almighty. This name or attribute, The Possessor of Glory and Honour, Lord of Majesty and Generosity (Arabic: Zul Jalal-e-wal-ikram), is one of the 99 names of Allah the Almighty. The Prophet (PBUH) was gifted with the five times obligatory prayers (Salah) during this Night Journey. This is mentioned in the 45th verse of Chapter Al-Ankabut and hence this verse has been written in this artwork around the great attribute of Allah the Almighty, portraying the fact that the Majestic and Generous Lord gifted us with the obligatory prayers to remember him and be a means to meet him. 

On the right side of the artwork is the 107th verse of the Chapter Al-Anbia which describes one of the attributes of the Prophet (PBUH). Allah the Almighty says, “We have not sent you ˹O Prophet˺ except as a mercy for all the worlds.” The artwork depicts two footsteps of the Prophet (PBUH) under Burraq, one in each wormhole. This artwork draws upon the Theory of Gravitation and the concept of Wormholes. The concept is that the wormholes act like tunnels, where one can travel in the space-time-continuum at the speed of light and cover immensely large distances in a very short span of time. Since this journey was taken during night, the space around the wormholes, Burraq and the Seven Heavens is glittered with stars and galaxies. The bottom part of the artwork portrays the mountains and deserts of Arabia where the sheep are grazing. The well of Zam Zam is depicted in the right and will be portrayed in more detail in the next piece of this series of artworks.

We pray to Allah the Almighty to show us the scenes that bring coolness to our eyes, to show us good and virtue for we want to stay away from the evil. Amen



حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی 63 سالہ زندگی کے مختلف ادوار کی 6 پیپر کٹنگ آرٹ میں مختصر منظر کشی کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ان 6 ادوار کی پیپر کٹنگ آرٹ کی صورت میں منظر کشی توصیف احمد ڈاٹ کام پر 6 پراجیکٹ کی صورت میں دستیاب ہے۔
یہ تمام آرٹ ورک گولڈن اور بلیک ورق کو کاٹ کربنایا گیا ہے ۔ ان 6 آرٹ پیس میں سے ہر آرٹ پیس ایک مکمل سٹوری اور واقعہ پیش کرتا ہے ۔
دوسرے آرٹ ورک Prophet Muhammad PBUH-2 کا موضوع ہے اسریٰ و معراج شریف ۔ اسریٰ کا معنی ہوتا ہے رات کو لےجانا ۔ اور معراج یعنی سیڑھی ۔
معراج شریف کا واقعہ نبوت سے ایک سال پہلے کا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ سفر معراج جسمانی سفر تھا ۔ کچھ لوگوں کے نزدیک یہ اشکال ہے کہ اتنا لمبا سفر ایک ہی رات میں کیسے طے ہوگیا ؟ یاد رکھیں لوگوں کے نزدیک ظاہری اسباب کے اعتبار سے یہ واقعہ کتنا ہی محال کیوں نہ ہو لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے یہ مشکل نہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ظاہری اسباب کا محتاج نہیں ۔اللہ تعالیٰ لفظ کُن کہنے پلک جھپکتے ہی سب کچھ کرنے پہ قادر ہے ۔ اسباب تو انسانوں کے لیے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان پابندیوں اور کوتاہیوں سے پاک ہے ۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ معراج شریف کے سفر کا مقصد یہ تھا کہ ہم اپنے بندے کو عجائبات اور آیات کبریٰ دکھائیں ۔جن میں سے ایک آیت یعنی نشانی یہ بھی ہے کہ اتنا طویل سفر رات کے قلیل حصے میں ہی ہوگیا ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معراج ہوئی آسمانوں پہ لیجایا گیا وہاں مختلف آسمانوں پر انبیاء کرام سے ملاقاتیں ہوئی ۔ اور سدرۃ المنتہی پر جو ساتویں آسمان پر عرش سے نیچے ہے وہاں اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نماز اور دیگر بعض چیزیں عطافرمائی ۔ چلیں موضوع کی طرف بڑھتے ہیں ۔
پچھلے آرٹ ورک میں غار حراسے جو راستہ نکل رہا تھا اُسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے اسریٰ اور معراج شریف تک وہی راستہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک کہاں سے چلے اور کس معراج یعنی بلندی تک پہنچے ۔
درمیان میں براق کو پروں والے گھوڑے کی شکل میں دکھایا گیا ہے ۔ براق کے اوپر سرکل کی شکل میں سات قوسیں دکھائی گئی ہیں جو سات آسمانوں کی غمازی کرتی ہیں ۔ اور ان سات آسمانوں پر جس جس پیغمبر سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات ہوئی وہ بھی درمیان میں گولڈن پیپر میں ظاہر کی گئی ہیں ۔ چونکہ انبیاء كرام کے ناموں کا آرٹ ورک گولڈن پیپر پہ کیاگیا تھا اس لیے تصویر بناتے وقت کیمرے کے فلیش کی وجہ سے سیاہ رنگ نمایاں نظر آرہا ہے ۔ جبکہ سات آسمانوں پر انبیاء کے ناموں کا آرٹ ورک ہارڈ کاپی میں گولڈن ورق پر دیکھا جاسکتا ہے ۔
ہر آسمان کو پیٹرن اس نظریے سے مختلف رکھا گیا ہے تا کہ ہر آسمان زیادہ سے زیادہ نمایاں اور خوبصورت نظر آئے ۔
آسمان کے اوپر ایک طرف اللہ تعالیٰ کا نام ذوالجلال والاکرام دکھایا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ پیارا نام اسماء الحسنی بھی کہلاتا ہے ۔ اور سورۃ الرحمن کی آخری آیت میں بھی اللہ تعا لیٰ کے اس اسماء الحسنی کا ذکر کیا گیا ہے کہ تیرے پروردگار کا نام بابرکت ہے اور عزت و جلال والا ہے ۔ یعنی اندازہ لگا لیں کہ جونام اتنا بلندی اور عزت والا ہے وہ ذات خود کتنی بلندی اور عزت والی ہوگی ۔
چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آسمانوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نماز کا تحفہ دیاگیا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ کے نام کے گرد سورۃ العنکبوت کی آیت نمبر 45 بھی نمایاں کی گئی ہے ۔
ان الصلوۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر ۔
اس کے بعد ایک طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک صفت جو کہ قرآن مجیدسورۃ الانبیاء کی آیت 107 میں بیان کی گئی ہے کہ!
وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین ۔
بے شک آپ تمام جہانوں کے لیے رحمت بناکربھیجے گئے ہیں ۔
براق کے نیچے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو نعلین شریف دکھائے گئے ہیں ۔
براق کے پچھلے دو پائوں ورم ہول کے ایک دائرے میں دکھائے گئے ہیں اور دوسرے دو پاؤں ورم ہول کے دوسرے دائرے میں ۔ ورم ہول کے بارے تو آپ جانتے ہی ہیں کہ یہ ایک ایسا تھیوریٹیکل طریقہ ہے جس میں سپیس ٹائم کو موڑ کر سپیس ٹائم پر موجود دو مختلف مقامات کو آپس میں ملایا جاتاہے ۔ جو ایک ٹنل کی طرح آپ کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچا دیتی ہے ۔ چاہے ان دو مقامات کے درمیان فاصلہ چندمیٹر سے لے کر لاکھوں نوری سالوں تک ہی محیط کیوں نہ ہو ۔ اسی طرح ورم ہول تھیوری کو دیکھا جائے تو یہ سفر جسمانی طور پر بھی ممکن ہے ۔ اور آج کی سائنس بھی ٹائم ٹریلونگ کے بارے نہ صرف سوچ رہی ہے بلکہ اُن کے نزدیک یہ سب ممکن بھی ہے ۔
چونکہ یہ سارا سفر رات کا تھا اس لیے ورم ہول اور سات آسمانوں کے درمیان براق کا سفری راستہ ستاروں اور کہکشاؤں سے سجایا گیا ہے ۔
سب سے نیچے وہی عرب کے پہاڑوں کا تسلسل برقرار رکھا گیا ہے ۔جس پر کچھ بکریاں گھاس چرتی ہوئی نظر آرہی ہیں ۔ اس کے دائیں طرف آب زم زم کی عکاسی کی گئی ہے ۔ آب زم کا منظر نامہ تیسرے آرٹ پیس میں مزید واضح ہوجائے گا ۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ کریم ہماری آنکھوں کو خیرا کرنے والے مناظر دکھائے ۔ یا اللہ ہم نیکی دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمیں شر سے محفوظ رکھ ۔ آمین یا رب العالمین



جرت محاولة لتصوير فترات مختلفة من حياة النبي البالغ من العمر 63 عامًا بإيجاز في 6 فنون قص الورق. يتوفر تصوير لهذه الفترات الست في فن قص الورق في شكل 6 مشاريع في tusifahmad.com.

كل هذه الأعمال الفنية مقطوعة من رقائق ذهبية وسوداء. يقدم كل من هذه الأعمال الفنية الستة قصة وحدثًا كاملين.

موضوع العمل الفني الثالث للنبي محمد صلى الله عليه وسلم هو بيت المعمور. المعنى الحرفي لبيت المعمور هو البيت المسكون في جميع الأوقات. بيت يسكنه ذكر الله في كل وقت. موقع بيت المعمور في السماء السابعة فوق بيت الله مباشرة. في تفسير الأحاديث والآية الرابعة من سورة الطور ، يكتب المعلقون أن بيت المعمور يشير إلى بيت في السماء السابعة. كما التقى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالنبي إبراهيم (صلى الله عليه وسلم) في بيت المعمور في الجنة السابعة وكان جالسًا متكئًا على سور بيت المعمور. لذلك في حديث شريف المسلم رقم 411 ، قيل أنه مع جبريل (صلى الله عليه وسلم) عندما صعد النبي إلى السماء السابعة ، التقى إبراهيم هناك.

بعد مقدمة موجزة لبيت المعمور ، دعنا ننتقل إلى الموضوع ، وهو تفسير موجز للعمل الفني الثالث.

يُظهر العمل الفني بيت الله (بيت الكعبة) أسفل وحول الأمة المسلمة تؤدي فريضة الحج والعمرة والعبادة. لأن قراءة هذا الدعاء في طواف الحج والعمرة تثبت بالحديث والسنة. يا رب خير كثير في الدنيا وخير في الآخرة وسنعاقب بالنار.

اللهم ارزقنا الخير في الدنيا وارزقنا الخير في الآخرة واحفظنا من عذاب النار.

هذه الصلاة مذكورة أيضًا في الآية 201 من سورة البقرة. لذلك جرت محاولة لإظهار هذا الدعاء على شكل بيضاوي ، أي الحجر الأسود. هذا يعني أن الأمة المسلمة يجب أن تقبل الحجر الأسود وأن تحب هذا الدعاء المفضل للنبي الكريم. افعل ويجب علينا تضمين هذه الصلاة في صلواتنا

إذا شوهدت ترجمة هذه الصلاة ، فإن مفهومًا يتضح تمامًا أنه عند الدراويش والصوفية ، وهو المفهوم الذي يجب البحث عنه فقط في الآخرة ويقولون إننا لا نهتم بهذا العالم. يجب أن يفكر هؤلاء الأشخاص في اعتقادهم أنه في هذا الدعاء ، تم وضع جميع الأشياء الجيدة في العالم أولاً ، على سبيل المثال ، الصحة ، صحة أفراد الأسرة ، الوفرة والبركات في القوت الحلال ، وما إلى ذلك ، كلها أشياء جيدة في العالم . وبعد ذلك حفظت نِعَم الآخرة أنه في حالة الصحة تكون الأسرة مزدهرة ، وفيها استرخاء عقلي ، فيتم الحصول على بركات الآخرة بالعبادة. لذلك لا حرج في طلب خير الدنيا والآخرة.

فوق هذه الصلاة مباشرة يظهر بيت المعمور. كما ذكرنا سابقاً ، بيت المعمور بيت في الجنة السابعة. تظهر أزهار ذات ورقتين حول بيت المعمور ، وهي تشير إلى خلق الله الملائكة النور. من يفعلون طواف بيت المعمور في كل وقت. يذكر حديث شريف المسلم رقم 411 أن سبعين ألفًا من الملائكة يدخلون بيت المعمور في وقت واحد ويؤدون الطواف. أولئك الذين يدخلون مرة واحدة لا يدخلون مرة أخرى لأن عدد الملائكة لعبادة الله تعالى كبير جدًا لدرجة أن الأوائل لا يعودون مرة أخرى. من هنا يتضح أكثر أنه إذا كان على الله تعالى أن يعبده وحده ، فلن ينقص الله تعالى ملائكة للعبادة. من وصف عظمة الله وجلاله ، فله نفعه. لا فرق في عظمة الله كريم وعظمته إذا لم نتعبد.

ثانيًا ، إذا نظرنا إلى الوضع الحالي لكورونا ، حيث تم تعليق بقية الأنشطة مع مراعاة إجراءات السلامة ، تأثرت الصلاة في المساجد أيضًا. وتحت نفس الإجراءات الأمنية ، عندما أغلقت الكعبة أمام الطواف والعمرة والعبادة ، شعر الناس بالقلق من إغلاق الطواف. لا ينبغي أن يخاف المؤمنون لأنه يكفي أن نتعزى في السماء السابعة من فوق. في كل الأوقات سبعون ألف ملائكة يطوفون ببيت المعمور. ادعو الله تعالى أن يقينا من جميع أنواع الأمراض والمعاناة حتى نتمكن من عبادة الله تعالى بطريقة أفضل بكل سهولة وصحة.

ندعو الله تعالى أن يرينا مناظر جميلة. اللهم نريد أن نرى الخير لا تظهرنا الشر. أظهر لنا مشاهد نعمتك ونورك ، وبعد ذلك ندخل في دائرة رحمتك. اللهم احفظنا من شر العدو. أمين.

0 items Cart
My account