Tusif Ahmad


140 x 52 cm
Code: 13629



Done by hand with a craft blade, this beautiful wall decor is cut to precision. Artwork material is thin sheet of vinyl.

The cost of each paper cut varies depending on size and detail. Please contact me for price.

Customizable? Just message me and I can work with you in whatever custom wall hanging you’d like.

***FRAMES—This listing does not come framed however, you CAN purchase a frame by messaging me. I can add a frame to your order. Frames cost will be separate depending on size of artwork.

The paper cut itself comes in a clear sleeve with round cardboard support. For refunding policies please visit our contact page.



At this point you have the fourth artwork in front of you.

This artwork is about the migration of the Holy Prophet (PBUH) from Makkah to Madinah Al-Munawarah. If you observe the first three artworks, you can see that the 63-year-old Prophet (PBUH) is 63 years old. An attempt has been made to depict various periods of life in paper cutting art. All these artworks are cut from golden and black foil. Each of these artworks presents a complete story and event. And all these artworks are available in the form of paper cutting art in the form of 6 projects at taseef ahmed.com.

As mentioned above, the fourth artwork is on the theme of migration from Mecca to Medina. When the Quraysh of Makkah started plotting to kill the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) in Dar al-Landah, Jibreel (peace be upon him) informed the Prophet (peace be upon him) of the plots of the Quraysh on behalf of his Lord. The Prophet (PBUH) was allowed to migrate from Makkah to Madinah. After that, the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) traveled to the cave of Thor in Makkah in the dark of night. According to hadiths

The Holy Prophet (PBUH) was reciting Surat Yasin from verse one to nine.

So the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) picked up some soil and recited this verse! Yessin. By the wise Qur’an, you are among the group of prophets. And recited up to verse number nine.

Wajaalna min ban idiham sada wa min khalafham sada fagshinham fham la yabisrun.

And We made a wall in front of them and a wall behind them, thus We covered their eyes and they could not see anything.

That is, with the blessing of these verses, Allah had temporarily blinded the disbelievers. And the disbelievers did not see the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) passing in front of their eyes.

Considering the importance of Surah Yasin in this regard, the first three verses are presented in the artwork, which symbolically presents two things. One is that we people should stay connected with the Prophet’s Holy Self, because the name of the Holy Prophet Yasin is also mentioned in the Holy Qur’an. And secondly, the aim was to highlight the importance of Surah Yasin.

After leaving Makkah, the Holy Prophet (PBUH) stayed with Hazrat Abu Bakr Siddique (RA) in Ghar Thaor, and then at the appropriate time, the Prophet (PBUH) started his journey from there to Madinah.

A horse can be seen buried in the sand on the right side of the artwork. On the way to Madinah, a wrestler, Saraqa bin Malik, challenged him and tried to block the way of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). I was sunk. And no harm could come to the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him).

Camels are shown just above it. In the History of Islam, Part I, author Maulana Akbar Shah Khan Najibabadi writes that the name of the camel of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) was Al-Qusavi. Abu Bakr Siddique (RA) and his servants were riding on the second camel. On the third camel, Abdullah bin Ariqz, who was the guide, rode. Thus, this short caravan of four men left Makkah towards Madinah.

An attempt has been made to show the green dome after slightly depicting the Prophet’s Mosque on top of it. A beautiful green glossy paper is used in the second layer to make the green dome. A fine floral arch is made on top of the mosque. In which an attempt has been made to show how the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) was welcomed in Madinah by making white peace birds. Hazrat Bara says that I have never seen the people of Madinah so happy on the arrival of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). All the people of Medina happily stood on both sides of the Prophet’s path and little girls climbed on the roof and started reciting poetry. Tal al-Badr Alina. The moon of the fourteenth night has risen upon us.

Wajab Al-Shakar Alina. We are obliged to be grateful for this blessing.

Then the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) started an Islamic society by establishing the Prophet’s Mosque in Madinah.

In this artwork, the zamzam sequence of the previous art is also continued at the bottom. As you know that Zamzam mountain range does not go to Madinah Al Manoorah but here only the Zamzam range is shown symbolically to beautify the artwork and support work. While actually the delivery of zam zam from Makkah to Madinah is done through tankers. And more than one lakh liters of water is supplied to Madinah on a daily basis.

We pray to Allah Almighty to grant us the ability to honor, respect and obey the Holy Prophet (peace be upon him) in the true sense. May Allah show us beautiful scenes and make the dome of Khidra cool our eyes. Oh Allah, we want to see goodness, don’t show us evil. Show us the scenes of your grace and light, after which we enter the circle of your mercy. Oh Allah, protect us from the evil of the enemy. Ameen.



اس وقت آپ کے سامنے چوتھا آرٹ ورک موجود ہے۔   

یہ آرٹ ورک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکہ المکرمہ سے مدینہ المنورہ ہجرت کے موضوع پر مشتمل ہے۔اگرآپ پہلے والے تین آرٹ پیس کا مشاہدہ کریں تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اُن آرٹ ورک میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی 63 سالہ زندگی کے مختلف ادوار کی پیپر کٹنگ آرٹ میں مختصر منظر کشی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ تمام آرٹ ورک گولڈن اور بلیک ورق کو کاٹ کربنایا گیا ہے۔ ان آرٹ پیس میں سے ہر آرٹ پیس ایک مکمل سٹوری اور واقعہ پیش کرتا ہے۔اور یہ تمام آرٹ ورک پیپر کٹنگ آرٹ کی صورت میں توصیف احمد ڈاٹ کام پر 6 پراجیکٹ کی صورت میں دستیاب ہے۔

جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کہ چوتھا آرٹ ورک مکہ سے مدینہ ہجرت کے موضوع پرہے۔ جب قریش مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دارالندوہ میں نعوذ باللہ قتل کرنے کی سازشیں شروع کی تو جبریل علیہ السلام نے اپنے رب کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قریش کی سازشوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے اندھیرے میں مکہ میں ہی غار ثور کی طرف سفر کرتے ہیں۔ احادیث کے مطابق

آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورت یٰسین کی آیت ایک سے نو تک تلاوت کرتے جارہے تھے۔

چنانچہ آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ مٹی اٹھائی اور یہ آیت تلاوت فرمائی! یسین۔ قسم ہے حکمت والے قرآن کی۔بے شک آپ پیغمبروں کے گروہ میں سے ہیں۔ اور آیت نمبر نو تک تلاوت کی۔

وجعلنا من بین ایدیھم سدا و من خلفھم سدا فاغشینھم فھم لا یبصرون۔

اور ہم نے ایک دیوار اُن کے آگے بنا دی اور ایک دیوار اُن کے پیچھے اس طرح ہم نے اُن کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اور وہ کچھ بھی دیکھ نہیں سکتے۔

یعنی ان آیات کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے کفار کو وقتی طور پر اندھا کردیا تھا۔ اور کفار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی آنکھوں کے سامنے سے جاتا ہوا دیکھ ہی نہیں پائے تھے۔

اسی حوالے سے سورۃ یسین کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے آرٹ ورک میں پہلی تین آیتیں پیش کی گئی ہیں۔جوsymbolicallyدو چیزوں کو present کرتی ہیں۔ ایک یہ کہ ہم لوگ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس سے جڑے رہیں کیونکہ قرآن مجید میں حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام یسین بھی مذکور ہے۔ اور دوسری بات سورۃ یسین کی اہمیت کو اجاگر کرنا بھی مقصد تھا۔

مکہ سے نکل کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غار ثور میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ قیام کیا تھا اور پھرمناسب وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں سے مدینہ کی طرف سفر شروع کردیا۔

آرٹ ورک میں دائیں طرف ایک گھوڑا ریت میں دھنسا ہوا دیکھ سکتے ہیں۔ مدینہ جاتے ہوئے راستے میں ایک پہلوان سراقہ بن مالک نے للکار کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا راستہ روکنے کی کوشش کی تھی۔جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رخ انور پھیر کر اُس کی طرف دیکھا تو اس کے گھوڑے کی ٹانگیں زمین میں ہی دھنس گئی تھیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکا تھا۔

اس کے بالکل اوپر اونٹنیاں دکھائی گئی ہیں ۔تاریخ اسلام حصہ اول میں مصنف مولانا اکبر شاہ خان نجیب آبادی لکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کا نام القصویٰ تھا۔ دوسری اونٹنی پر ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے خادم سوار تھے۔ تیسرے اونٹ پر عبداللہ بن اریقظ جو دلیل ِ راہ تھے وہ سوار ہوئے۔ یوں چارآدمیوں کا یہ مختصر سا قافلہ مکہ سے مدینہ کی طرف نکلا تھا۔

اس کے اوپر مسجد نبوی کی ہلکی سی عکاسی کرنے کے بعد سبز گنبد کوبھی ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سبز گنبد بنانے کے لیے سبز رنگ کے خوبصورت Glossy Paper کو Second Layer میں استعمال کیا گیا ہے۔مسجد کے اوپر باریک پھولوں والی محراب بنائی گئی ہے۔ جس کے اندر سفید امن والے پرندے بنا کر یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مدینہ میں کیسے خوش آمدید کیا گیا تھا۔ حضرت براء فرماتے ہیں کہ میں نے مدینہ والوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد پہ جتنا خوش دیکھا اتنا کسی اور موقع پر نہیں دیکھا تھا۔ مدینہ منورہ کے سب لوگ خوشی سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راستے کے دونوں طرف کھڑے ہوگئے تھے اور چھوٹی بچیاں چھت پر چڑھ کر اشعار پڑھنے لگی۔ طلع البدر علینا۔ چودہویں رات کا چاند ہم پر طلوع ہوا ہے۔

وجب الشکر علینا۔ ہم پر اس نعمت کا شکر واجب ہے۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کا قیام کرکے ایک اسلامی معاشرے کا آغاز کیا۔

اس آرٹ ورک میں سب سے نیچے وہی پچھلے آرٹ کا زم زم کا سلسلہ بھی جاری رکھا گیا ہے۔۔ جیسا کہ آپ جانتے ہی ہیں کہ زم زم کا پہاڑی سلسلہ مدینہ المنورہ تک نہیں جاتا بلکہ یہاں پر صرف آرٹ ورک کو خوبصورت بنانے اور سپورٹ ورک کے لیے علامتی طور پر زم زم کا سلسلہ دکھایا گیا ہے۔ جبکہ اصل میں مکہ سے مدینہ زم زم کی ترسیل ٹینکروں کے زریعے کی جاتی ہے۔ اورتقریبا ایک لاکھ لیٹر سے زیادہ پانی روزانہ کی بنیاد پر مدینہ سپلائی کیا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ کریم ہمیں صحیح معنوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت، احترام اور تابعداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ ہماری آنکھوں کو خیرا کرنے والے مناظردکھائے اور گنبد خضریٰ کو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے۔ یا اللہ ہم نیکی دیکھنا چاہتے ہیں ہمیں بدی نہ دکھانا۔ہمیں اپنے فضل و کرم اور نورکے وہ مناظر دکھا کہ جس کے بعد ہمیں تیری رحمت کے دائرے میں داخل ہوجائیں۔یا اللہ ہمیں دشمن کے شر سے محفوظ رکھ۔ آمین یا رب العالمین۔



في هذه المرحلة لديك العمل الفني الرابع أمامك.

يدور هذا العمل الفني حول هجرة الرسول الكريم صلى الله عليه وسلم من مكة المكرمة إلى المدينة المنورة. إذا لاحظت الأعمال الفنية الثلاثة الأولى ، يمكنك أن ترى أن النبي (صلى الله عليه وسلم) يبلغ من العمر 63 عامًا. جرت محاولة لتصوير فترات مختلفة من الحياة في فن قص الورق. كل هذه الأعمال الفنية مقطوعة من رقائق ذهبية وسوداء. يقدم كل من هذه الأعمال الفنية قصة وحدثًا كاملين. وجميع هذه الأعمال الفنية متوفرة على شكل فن قص الورق على شكل 6 مشاريع في taseef ahmed.com.

كما ذكر أعلاه ، فإن العمل الفني الرابع حول موضوع الهجرة من مكة إلى المدينة المنورة. لما بدأت قريش مكة تتآمر لقتل النبي صلى الله عليه وسلم في دار الندة ، أبلغ جبريل (صلى الله عليه وسلم) النبي صلى الله عليه وسلم بمؤامرات قريش. باسم ربه. سُمح للنبي صلى الله عليه وسلم بالهجرة من مكة إلى المدينة المنورة. وبعد ذلك سافر النبي صلى الله عليه وسلم إلى مغارة طور بمكة في ظلام الليل. حسب الأحاديث

كان الرسول الكريم (صلى الله عليه وسلم) يقرأ سورة ياسين من الآية واحد إلى تسعة.

فأخذ النبي صلى الله عليه وسلم بعض التراب وقرأ هذه الآية! نعم. بالقرآن الحكيم أنتم من جماعة الأنبياء. ويتلى حتى الآية رقم تسعة.

واجعلنا من بان ادهم صدى ومن خلفهم صدى فجشنهام فهام لا يبصرون.

وأقمنا أمامهم سورًا وخلفهم سورًا ، فغطينا أعينهم فلم يروا شيئًا.

أي ببركة هذه الآيات أعمى الله الكفار مؤقتاً. ولم ير الكفار النبي صلى الله عليه وسلم يمر أمام أعينهم.

وبالنظر إلى أهمية سورة ياسين في هذا الصدد ، فإن الآيات الثلاث الأولى تعرض في العمل الفني ، والتي تقدم بشكل رمزي شيئين. الأول هو أننا يجب أن نبقى على اتصال مع الذات المقدسة للنبي ، لأن اسم النبي الكريم ياسين مذكور أيضًا في القرآن الكريم. وثانياً ، كان الهدف إبراز أهمية سورة ياسين.

بعد مغادرة مكة ، أقام الرسول الكريم صلى الله عليه وسلم مع حضرة أبو بكر الصديق (رضي الله عنه) في غار ثور ، ثم في الوقت المناسب ، بدأ النبي صلى الله عليه وسلم رحلته من هناك إلى المدينة المنورة.

يمكن رؤية حصان مدفونًا في الرمال على الجانب الأيمن من العمل الفني. وفي طريقه إلى المدينة تحدى المصارع سارا بن مالك وحاول قطع طريق النبي صلى الله عليه وسلم. كنت غارقة. ولا يضر النبي صلى الله عليه وسلم.

تظهر الجمال فوقه مباشرة. في تاريخ الإسلام ، الجزء الأول ، كتب المؤلف مولانا أكبر شاه خان نجيب آبادي أن اسم ناقة النبي صلى الله عليه وسلم كان القصوي. وكان أبو بكر الصديق (رضي الله عنه) وخدمه يمتطون الجمل الثاني. وعلى الناقة الثالثة ركب عبد الله بن أرقز الذي كان المرشد. وهكذا غادرت هذه القافلة القصيرة المكونة من أربعة رجال مكة باتجاه المدينة المنورة.

جرت محاولة لإظهار القبة الخضراء بعد رسم طفيف للمسجد النبوي فوقها. يتم استخدام ورق لامع أخضر جميل في الطبقة الثانية لعمل القبة الخضراء. وعلى رأس المسجد قوس زهري جميل. وقد جرت فيه محاولة إظهار كيف استقبل النبي صلى الله عليه وسلم في المدينة المنورة بصنع طيور السلام البيضاء. يقول حضرة البراء إنني لم أر أهل المدينة قط سعداء بقدوم النبي صلى الله عليه وسلم. وقف جميع أهل المدينة سعداء على جانبي طريق النبي ، وصعدت الفتيات الصغيرات على السطح وبدأت في تلاوة الشعر. تل البدر علينا. طلع علينا قمر الليلة الرابعة عشرة.

وجب الشكّر علينا. نحن مضطرون لأن نكون ممتنين لهذه النعمة.

ثم أنشأ النبي صلى الله عليه وسلم مجتمعًا إسلاميًا بإنشاء المسجد النبوي في المدينة المنورة.

في هذا العمل الفني ، يستمر أيضًا تسلسل زمزم للفن السابق في الأسفل. كما تعلم أن سلسلة جبال زمزم لا تذهب إلى المدينة المنورة ولكن هنا فقط نطاق زمزم يظهر بشكل رمزي لتجميل العمل الفني ودعم العمل. بينما في الواقع يتم تسليم زمزم من مكة المكرمة إلى المدينة المنورة عن طريق الناقلات. ويتم توفير أكثر من لكح لتر من المياه للمدينة المنورة بشكل يومي.

نسأل الله تعالى أن يوفقنا القدرة على إكرام الرسول الكريم (صلى الله عليه وسلم) واحترامه وطاعته. أرانا الله مناظر جميلة ، وجعل قبة الخضرة تبرد أعيننا. اللهم نريد أن نرى الخير لا تظهر لنا الشر. أظهر لنا مناظر نعمتك ونورك ، وبعد ذلك ندخل في دائرة رحمتك. اللهم احفظنا من شر العدو. أمين.

0 items Cart
My account